محمد رضی الرحمن قاسمی
ہندوستان اور خلیجی ممالک میں وسیع تدریسی و علمی تجربہ۔
محمد رضی الرحمن قاسمی مفتی، عالم شریعت اور عربی و اردو زبان کے معروف استاذ و اسکالر ہیں اور اس وقت الجامعہ الاسلامیہ، کیرالا (ہندوستان) میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی علمی تشکیل روایتی اسلامی علوم کی مضبوط بنیاد اور جدید جامعاتی تعلیم و تحقیق کے حسین امتزاج پر قائم ہے۔
گزشتہ پندرہ برس سے زیادہ عرصے میں انہوں نے ایک ممتاز استاد، محقق، مصنف، شستہ مقرر اور فکری رہنما کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے، جو کلاسیکی اسلامی علوم اور معاصر علمی مباحث دونوں سے فعال تعلق رکھتے ہیں۔
مولانا رضی قاسمی نے اپنی بنیادی دینی تعلیم علومِ اسلامیہ کے روایتی نصاب کے تحت حاصل کی ہے اور اس کی تکمیل دارالعلوم دیوبند سے کی ہے، جو عالم اسلام کے معروف ترین علمی مراکز میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد انہوں نے المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد سے فقہ اسلامی اور تخصص فی الفقہ و الافتاء میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس دوران انہیں معروف فقیہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی خصوصی علمی سرپرستی اور رہنمائی سے بھی استفادہ کا موقع ملا۔
روایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید جامعاتی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ انہوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے بی اے کیا، پھر مدراس یونیورسٹی سے ایم اے (ماڈرن عربی) کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امام الدعوۃ اکیڈمی (ملحقہ جامعہ ام القری مکہ مکرمہ) سے ڈپلومہ ان ریسرچ میتھوڈالوجی بھی مکمل کیا ہے۔
ان کا تدریسی تجربہ مختلف ممالک اور تعلیمی ماحول پر محیط ہے۔ انہوں نے ہندوستان، قطر اور سعودی عرب کے مختلف تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دی ہیں۔ اس دوران انہوں نے اصول فقہ، فقہ المعاملات، علوم حدیث، تفسیر قرآن، عربی نحو و صرف، عربی انشاء اور معاصر اسلامی فکر جیسے مضامین پڑھائے ہیں۔ ان کے تدریسی نصاب میں مشکاۃ المصابیح، الہدایہ اور شرح الوقایہ جیسی کلاسیکی کتب کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے بین الاقوامی تعلیمی نظام میں شامل جدید نصاب بھی شامل رہے ہیں۔
تدریس کے ساتھ ساتھ مولانا رضی قاسمی تصنیف و تالیف اور ترجمہ کے میدان میں بھی فعال ہیں۔ انہوں نے اردو اور عربی میں متعدد کتابیں تصنیف یا ترجمہ کی ہیں جن میں اسلامی خاندانی قانون، علومِ قرآن اور معاصر فکری مباحث جیسے موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔
مولانا رضی قاسمی نے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی علمی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں بھی شرکت کی ہے، جہاں انہوں نے فقہ اسلامی، اسلامی تعلیم اور معاصر سماجی مسائل پر علمی مباحث میں حصہ لیا۔ وہ انٹرنیشنل یونین آف عربک لینگویج کے رکن بھی ہیں۔
وہ ایک کثیر اللسان استاذ اور اسکالر ہیں اور عربی، اردو، انگریزی اور ہندی زبانوں میں تدریسی اور علمی کام کرتے ہیں جبکہ فارسی میں مطالعہ کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ان کی علمی کاوشوں کا بنیادی مقصد کلاسیکی اسلامی علمی روایت اور جدید علمی تحقیق کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کرنا ہے۔
محمد رضی الرحمن قاسمی حافظِ قرآن بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم کے دوران قرآنِ کریم حفظ کیا اور آج بھی تلاوت اور تدبرِ قرآن سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ خوش الحانی اور درست تجوید کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کے لیے معروف ہیں۔
محمد رضی الرحمن قاسمی
تقریباً پندرہ سالہ تدریسی عرصہ میں اس حقیر نے جو فنون اور کتابیں پڑھائی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
14 – قطر وزارت تعلیم کی آٹھویں جماعت سے بارہویں جماعت تک کی اسلامیات، فقہ، عقیدہ اور عربی زبان کی کتابیں
15 – سعودی وزارت تعلیم کی آٹھویں جماعت سے بارہویں جماعت تک کی اسلامیات، فقہ، عقیدہ اور عربی زبان و ادب کی کتابیں
- فسخ و تفریق (450 صفحہ، اردو): فقہ اسلامی میں فسخِ نکاح پر ایک فقہی مطالعہ مع ائمہ اربعہ کے نقاطِ نظر کا تقابلی جائزہ اور ہندوستان کے تناظر میں قابل عمل رائے کا ادلہ کے ساتھ بیان۔ ہندوستان کے دار القضاء میں قاضیوں کے لیے ایک گائیڈ کے طور پر استعمال ہونے والی معتبر کتاب۔
- اولاد کی تربیت - کوتاہیاں اور رہنما اصول (اردو): بچوں کی تربیت کے عصری چیلنجز اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اخلاقی رہنمائی۔ بنگلہ دیش کے ایک تعلیمی ادارہ نے اس کتاب کا بنگلہ زبان میں ترجمہ کیا ہے اور طبع ہوکر لوگوں کے درمیان متداول ہے۔
- النسخ فی القرآن الکریم و دحض الشبہات المثارۃ حولہ (عربی): ناسخ و منسوخ پر ایک علمی مطالعہ اور جدید شبہات کا جواب۔
- بین المذاہب تعلقات اور اسلام (اردو - ترجمہ): ڈاکٹر علی محی الدین القرہ داغی کی کتاب "نحن والآخر" کی تلخیص وترجمانی۔
- اصول الفقہ المیسرۃ (عربی - تعریب): حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب "آسان اصولِ فقہ" کا عربی ترجمہ۔
- علمی مقالات: ملک اور بیرون ملک کے اردو عربی جرائد و مجلات — جیسے الداعی، البلاغ، ترجمان دارلعلوم، ماہنامہ دار العلوم، تحقیقاتِ اسلامی — اخبار و رسائل میں اور متعدد الیکٹرانک پورٹل پر فقہ، سماجی اصلاح اور معاصر اسلامی فکر پر 150 سے زائد تحقیقی و فکری مختصر اور مفصل مضامین و مقالات چھپ چکے ہیں۔
- "فکری انحراف – تعارف، مسائل اور حل" - جرنل آف تحقیقاتِ شریعہ (اردو)، ندوۃ العلماء لکھنؤ (2025)۔
- "الصفات والخصائص المطلوبة فی القیادة الإسلامية" - جرنل آف الداعی (عربی)، دیوبند (فروری 2025)۔
- "نجش - احکام و مسائل" - بحث و نظر، دہلی (2008)۔
- "تأديب طلبة العلم - دراسة في ضوء الكتاب والسنة" - الداعی (2012-2013)۔
- "اعضاء کی پیوند کاری - شرعی نقطہ نظر" - ترجمانِ دیوبند (2009)۔
- "الرحلة في اللغة العربية وآدابها" - الداعی (2013)۔
- مطالعہ قرآن اور تفسیر بہ حیثیت ابدی کتاب ہدایت۔
- حدیث پاک کا عصر حاضر کے مسائل کے تناظر میں مطالعہ
- فقہ اسلامی اور معاصر چیلنجز۔
- قوانین عالم میں اسلامی قانون کا امتیاز۔
- عربی اور جنوبی ایشیائی زبانوں کے درمیان اسلامی علوم کی منتقلی
- عربی — اعلیٰ علمی مہارت (تدریس و تحقیق)۔
- اردو — مادری زبان / علمی تحریر۔
- انگریزی — علمی و پیشہ ورانہ مہارت۔
- ہندی — پیشہ ورانہ مہارت۔
- فارسی — مطالعے کی حد تک واقفیت۔
پچیس سے زیادہ فقہی، ادبی اور تربیتی سیمینار اور کانفرنس میں شرکت کی ہے، جو ہندوستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہوئے۔
سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات UAE، اردن، ماریشس، نیپال